اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت کے چینل 12 کی ویب سائٹ نے اپنے سیاسی تجزیہ کار یارون آبراہام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ صہیونی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے انہیں براہِ راست آگاہ نہیں کرتا۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی حکام ان مذاکرات سے متعلق معلومات زیادہ تر غیر مستقیم ذرائع سے حاصل کرتے ہیں، جبکہ بعض عہدیداروں نے امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق کسی مفاہمت تک پہنچنے کے امکان پر شکوک کا اظہار بھی کیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کے بعض اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں اور تہران بھی اس صورتحال سے آگاہ ہے۔
ان ذرائع کے مطابق سفارتی عمل ایک بار پھر ترجیح بن گیا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اندازوں کے باوجود صہیونی حکومت بدستور ہائی الرٹ پر ہے اور اس کی فوج امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ساتھ اپنے رابطے اور ہم آہنگی جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم ایک صہیونی اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے مستقبل یا دونوں ممالک کے تعلقات کے آئندہ رخ کے بارے میں فی الحال حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔
آپ کا تبصرہ